تعویذ پر مدرسہ کی امداد کرنا
سوال
زید تعویذات کا کام کرتا ہے، اور لوگ اس کے معتقد ہیں لیکن موصوف تعویذ دینے سے قبل سائل سے یہ کہہ کر حیلہ کرتے ہیں کہ پہلے تم ہمارے مدرسہ کے لئے امداد دو اور وہ ان کی حسب اوقات نقد رقم لیکر مدرسہ کو دیدیتے ہیں، تو یہ رقم لینی جائز ہے یا نہیں، اور وہ روپیہ لیکر مدرسہ کو دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اس حیلہ کی کیا ضرورت ہے اس سے اپنا استغناء بھی ہے، روپے کی وصول یابی بھی ہے، لوگ سمجھیں گے کہ اپنے واسطے تھوڑا ہی لیتے ہیں، اس لئے مناسب یہ ہے کہ تعویذ حسبہ اللہ دیدیا کریں، اور کہہ دیا کریں کہ صحت ہو جانے پر بطور شکرانہ مدرسہ کی امداد کر دینا کیونکہ صدقہ دینے سے بلائیں ٹلتی ہیں، اور خدائے پاک کا غصہ کم ہوتا ہے اس سے حدیث شریف کی تبلیغ بھی اور مسئلہ کی اشاعت بھی اور مدرسہ کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔