الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ڈاڑھی منڈانے کا حکم

سوال

(۱) ایک شخص داڑھی منڈواتا ہے اور منڈانے کی ترغیب بھی کرتا ہے۔ (۲) یا منڈ واتا تو ہے مگر ترغیب نہیں کرتا ہے۔ (۳) اور ایک شخص ایسا ہے جو تمام شعائر اسلام کو پورے پورے ادا کرتا ہے مگر داڑھی منڈاتا ہے لیکن ترغیب نہیں کرتا ہے نہ اپنے منڈانے کو اچھا سمجھتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو داڑھی رکھنے کی ترغیب کرتا ہے کیا ان تینوں شخصوں میں سے کسی کو فاسق کہہ سکتے ہیں یا نہیں اگر فاسق کا اطلاق آتا ہے تو کس کس شخص پر ان شخصوں میں سے شرع شریف میں قاضی کے یہاں اور ان کی قسم معتبر ہے یا نہیں اگر معتبر ہے تو کس کی اور اگر وہ توبہ کر…

جواب

تینوں فاسق ہیں تینوں مردود الشهادة ہیں پہلا شخص زیادہ گنہگار ہے اس سے کم دوسرا، اس سے کم تیسرا، جو بھی صدق دل سے توبہ کرے گا اللہ پاک اس کی توبہ کو قبول فرماویں گے اور گذشتہ گناہ معاف کر دیں گے یحرم علی الرجل قطع لحيته اهـ در مختار ص ۴۰۲، ج ۵/ حرام ہے مرد پر داڑھی کا کاٹنا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو