الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

یکمشت داڑھی کی تحقیق

سوال

کچھ دنوں سے ڈاڑھی کا مسئلہ چھڑا ہوا ہے۔ معلوم کرنا یہ ہے کہ احناف کے نزدیک ڈاڑھی کی صحیح مقدار کیا ہے۔ ایک مشت سے کم کرنا جائز ہے یا نہیں حقیقی مسئلہ تحریر فرمائیں اگر ممکن ہو تو ایک مشت کے سلسلہ میں کوئی قولی حدیث اور قرآن کی آیت تحریر فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔

جواب

حدیث شریف میں صاف اعفوا اللحی ارخوا اللحى. اوفروا اللحی کے الفاظ موجود ہیں جن کا ترجمہ ہے ڈاڑھی بڑھاؤ۔ ڈاڑھی لٹکاؤ۔ ڈاڑھی زیادہ کرو ان الفاظ کا تقاضہ تھا کہ بڑھانے کی کوئی حد مقرر نہ ہوتی اور کٹانا بالکل جائز نہ ہوتا مگر حدیث کے راوی صحابی کا معمول تھا کہ ایک مشت سے جو مقدار آگے بڑھ جاتی اس کو کٹا دیتے اس حدیث کو امام محمد نے کتاب الآثار میں روایت کیا ہے اور اس کو امام ابو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو