ڈاڑھی کی مقدار اور اس کا حکم مفصل
سوال
ڈاڑھی کا رکھنا کیا فرض واجب ہے یا سنت اور کیوں؟ (۲) ڈاڑھی کی مقدار فقہاء نے چار انگشت رکھی ہے۔ آیا یہ منصوص ہے اگر ہے تو کونسی نص ہے؟ (۳) اجماع امت جو شرعی حجت ہے وہ اجماع کن لوگوں کا معتبر ہے؟ (۴) کیا اب بھی کسی مسئلہ پر امت کو اجماع کا اختیار باقی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں؟ (۵) اجماع کی تعریف (۶)
جواب
(۴) علماء کی تصریح اور اہل تجربہ کے مشاہدہ سے یہ امر ثابت ہے کہ اس زمانہ میں اجتہاد مفقود ہے لہذا اب کسی مسئلہ فقہیہ پر شرعی اجماع دشوار ہے۔ (۶،۷) جوشی حرام لعینہ ہو اور اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہو اس کو حلال اعتقاد کرنا کفر ہے اور داڑھی کٹانے کی حرمت نص قطعی سے ثابت نہیں۔ بلکہ فقہا نے اخبار آحاد سے ثابت کی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔