الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ڈاڑھی کی تحقیق

سوال

(الف) شریعت مقدسہ مطہرہ میں داڑھی رکھنے کے متعلق امر ہے یا نہیں۔ کچھ احکام صادر فرمائے ہیں یا نہیں۔ اثبات ہو یا نفی دونوں صورتیں مدلل مستحکم بدلائل شرعیہ ہوں تا کہ عامۃ المسلمین کو کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ ر ہے۔ (ب) یہ بھی تحریر کریں کہ کتنی جگہ کے بالوں کو داڑھی کہا جاتا ہے یہ تحقیق بھی شرع شریف کی روشنی میں ہونا از حد ضروری ہے۔ (ج) اگر داڑھی رکھنے کے متعلق شریعت مقدسہ کا حکم ہے تو کیا چہرے کے کسی حصہ کے بالوں کو استرے سے کٹوانا درست ہے یا نہیں۔

جواب

ب: عربی میں” لحی” اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر دانت ہوتے ہیں اور چونکہ داڑھی اس ہڈی پر پیدا ہوتی ہے اس لئے داڑھی کو “لحية “کہتے ہیں پس اس ہڈی پر جو بال ہوں ان کو کٹوانا یا منڈانا جائز نہیں ہے ایک قبضہ تک پہونچنے کے بعد کٹوانا درست ہے۔ اللحى العظام الذي عليه الاسنان الخ المغرب۔ ج: خط بنوانا یعنی جو بال داڑھی کی حد سے بڑھ کر رخسار پر پیدا ہو گئے ہوں ان کو منڈانا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو