ملازمت کی خاطر داڑھی منڈانا
سوال
میرا ایک دوست ہے جس کا نام محمود احمد ہے اور انگریز مسلمان ہے اس کو داڑھی کا بہت شوق ہے لیکن چونکہ انگریزی فوج میں ہے لہذا اس کو داڑھی رکھنے کا حکم نہیں ہے۔ اس کے بارے میں وہ جاننا چاہتا ہے کہ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر بال انگریزی ہوں اور کترا دیں تو کیا حکم ہے؟ اور نماز قمیص اور پتلون سے ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر سر پر ٹوپی نہ ہو پھر نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور انشورنس کرانا جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم جملہ امور کے بارے میں ضروری تحریر روانہ کریں۔
جواب
حق تعالیٰ آپ کو اور آپ کے دوست کو عافیت سے رکھے، اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق دے۔ داڑھی رکھنا اور اس کو بڑھانا شرعاً واجب ہے۔ حدیث شریف میں اس کا حکم آیا ہے۔ ایک مشت تک پہنچنے سے پہلے کٹانا اور ایک مشت سے کم کرا لینا جائز نہیں۔ انگریزی بال رکھنا مناسب نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت عطا فرمائی ہے تو صورت و شکل وضع قطع بھی اسلامی ہی چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔