علاج کے لئے داڑھی صاف کرنا
سوال
ایک شخص ہے جس کی داڑھی میں روگ لگ گیا ہے، جس کا کافی علاج بھی کیا گیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہے، نیز ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ داڑھی صاف کرادیجئے،اس کے بعد آپ کا علاج کامیاب ہو جائے گا، کیا ایسی صورت میں داڑھی صاف کرانا شرعاً جائز ہے؟
جواب
امراض کے علاج کے لئے جب کوئی جائز دوا مفید نہ ہو تو مجبوراً نجس اور حرام دوا کے استعمال کی بھی اجازت ہے، جبکہ تجربہ کار اور دیندار معالج تجویز کر دے، کہ شفا حرام چیز سے ہی ہو سکتی ہے، اسی طرح اگر بغیر داڑھی صاف کرائے صحت نہیں ہو سکتی تو مجبوراً تحصیل صحت کے لئے اس کی گنجائش ہے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔