الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آپریشن سے جنس تبدیل کرنا حرام ہے

سوال

سیکس تبدیل کرنا (اپنی ہیئت مخلوقی تبدیل کرنا مرد سے عورت بننا اور عورت سے مرد بننا) شریعت مطہرہ کی رو سے سیکس تبدیل کرنے کے لئے آپریشن کرنا جائز ہے یا ناجائز، کیا اس حرکت شنیع سے تغیر خلق لازم نہیں آئیگی، جواز و عدم جواز کا قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا مفصل و مدلل جواب دیں۔ نوٹ: اس واقعہ کا وقوع ہو چکا ہے، اس لئے آپ کو زحمت دی جا رہی ہے، کہ اس کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ ملاحظہ فرمائیں، اٹلی کی کہانی منیجر کی زبانی، ملانی (اٹلی)

جواب

جو مرد زنانہ ہیئت اختیار کر کے یا زنانہ لباس پہنے اس پر حدیث پاک میں لعنت آئی ہے، اسی طرح جو عورت مردانہ ہیئت اختیار کرے، یا مردانہ لباس پہنے اس پر بھی حدیث پاک میں لعنت آئی ہے، یہاں تک کہ جو عورت مردوں کی طرح گھوڑے پر سوار ہو اس پر بھی لعنت آئی ہے۔ پھر مستقلاً صفت ذكورة کو انوثت میں تبدیل کرنا اور بالعکس کہاں درست ہوگا، کہ اس میں ہر مرد کی تخلیق مخصوص غایت ہی فوت ہو جاتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو