الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اعضاء کی پیوند کاری کی وصیت

سوال

کسی قریب المرگ یا فوت شدہ انسان کا کوئی عضو مثلاً دل، جگر، آنکھ وغیرہ دوسرے انسان کے جسم میں لگا دینا کیسا ہے؟ بعض انسان ہمدردی کے جذبہ کے تحت اس قسم کی وصیت کر دیتے ہیں کہ مثلاً میرے مرنے کے بعد میری آنکھ کسی ضرورت مند کے لئے نکال لی جائے، تو یہ وصیت قابل نفاذ ہے یا نہیں؟

جواب

کسی فوت شدہ انسان کا جگر، آنکھ، دل وغیرہ دوسرے انسان کے جسم میں نہیں لگا سکتے، اگر کوئی آدمی ایسی وصیت کرتا ہے جیسا کہ سوال میں درج ہے تو یہ وصیت کرنا جائز نہیں ہے، اور وہ نا قابل نفاذ ہے، ”احدها ان يوصى بما هـو معصية عندنا وعندهم كالوصية للمغنيات والنائحات فهذا لا يصح اجماعاً (مجمع الانهر، ج ۲/ ص ۷۱۶)“

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو