انجکشن کی اولاد
سوال
مضمون ذیل بظاہر تو ایک استفتاء کا جواب ہے مگر در حقیقت تہذیب حاضر کی حیاء سوز اور بھیانک تصویر کا آئینہ ہے اور موجودہ تہذیب کے شیدائیوں کے لئے ایک دعوت فکر ہے، امید کہ بہ نگاہ عبرت پڑھا جائے گا۔ الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علماء دین ومفتیان شرع متین، ملک ملایا میں ڈاکٹروں نے ایک انجکشن ایجاد کیا ہے، اس کا تجربہ اولاً جانوروں پر کیا گیا کہ جانوروں کو انجکشن لگایا گیا، اور بغیر نر کی وطی کے صحیح وقت پر بچہ پیدا ہو بعد اس کے عورت پر تجربہ انجکشن لگایا تو عورتوں کو بھی بغیر ولی مرد کے صحیح وقت پر بچہ پیدا…
جواب
تحقیق و تفتیش سے اس انجکشن کے دو مقصد معلوم ہوئے، اول توانا اور خوبصورت بچے پیدا کرنا، دوم آزادی، اور در حقیقت مقصد اول بھی مقصد دوم ہی کا ایک شعبہ ہے، دیر سے عورتوں کا مطالبہ ہے کہ ہم کو مردوں کے دوش بدوش کر دیا جائے، مردوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں ان کی حمایت بھی کی ہے، چنانچہ تعلیمی کالجوں، ملازمتی دفتروں صنعتی فیکٹریوں اور دوسرے بیشمار صیغوں میں عورتوں کا بے روک ٹوک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔