ختنہ کی کھال کا استعمال و فروخت
سوال
ایک عجیب و غریب بینک قائم کرنے کی تجویز کی گئی ہے، جس کو ختنہ بینک کہا جائیگا، دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں بچے کے ختنے کاٹے جاتے ہیں، اور اعلیٰ قسم کی کھال کاٹ کر ضائع کر دی جاتی ہے، آئندہ اس نفیس کھال کو بھی بینک میں جمع کر کے پلاسٹک سرجری یا کھال پیوند لگانے کے کام میں لگایا جائیگا، اب علماء کرام کو ایک نیا فتوی دینا ہوگا، کہ ختنے کی کھال کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ پھر یہ کہ مسلمان بچہ کی ختنہ کی کھال کافر کے جسم پر اور کافر بچہ کی ختنہ کی کھال مسلمان کے جسم پر لگائی جاسکتی ہے، یا نہیں؟
جواب
انسان اشرف المخلوقات ہے، اور جمیع اجزاء قابل احترام ہے، ختنہ کی کھال بھی اس کا جز ہے، اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، ”والآدمى مكرم شرعاً فايراد العقد عليه وابتذاله به والحاقه بالجمادات اذلال له اى وهو غير جائز وبعضه في حكمه وصرح في فتح القدير ببطلانه اھ ردالمحتار، كل اهاب دبغ الى ماقال خلا آدمى فلا يدبغ لكرامته ولودبغ طهر وان حرم استعماله ای استعمال جلده.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔