دوا میں شراب کا استعمال
سوال
ایک طبیب مسلمان بعض امراض سے متعلق اپنے آپ کو حاذق کہتے ہیں، دوا میں شراب کا استعمال کراتا ہے، جو کہ نجس ہے اور اس شراب کی حالت ضماد ہی میں بغیر دھوئے ہوئے نماز کا حکم دیتا ہے، کہ ایسی ہی حالت میں پڑھو؟
جواب
طبیب مذکور اگر یہ کہتا ہے کہ اس مرض کیلئے کوئی دوا حلال نہیں ہے، بلکہ شفاء شراب ہی میں منحصر ہے تو شراب کا ضماد درست ہے، اور اس کے دھونے میں اگر ضر ر کثیر ہو تو بغیر دھوئے نماز درست ہے ” و اختار في النهاية والخانية الجواز (التداوى بالمحرم) اذا علم فيه الشفاء ولم يجد دواء غیرہ شامی“۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔