الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مریض کے لئے شراب کا حکم

سوال

عمر و مرنے کے قریب ہے اور اس کو حکیم یا ڈاکٹر نے بتلایا کہ اس کو اگر شراب پلا دو تو شاید اس کی جان بچ جائے، ایسے وقت میں ایسا کرنا شرعی حکم کیا ہے، اور عمر و کہتا ہے کہ مر جاؤں گا شراب نہیں پیونگا، اس کا ایسا کہنا اور مر جانا کیسا ہے؟

جواب

اس حالت میں کہ حکیم یا ڈاکٹر کو بھی شراب پلانے کے باوجود شفا کا یقین نہیں، تو محض ان کے کہنے سے کہ شاید جان بچ جائے، شراب پینا درست نہیں، عمرو کا انکار صحیح ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو