الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شراب برائے علاج اور بلا عذر شراب نوشی سے معافی کی صورت

سوال

شراب نوشی شریعت کی رو سے حرام ہے، اگر کسی معقول وجہ سے یا صحت کی درستگی کی غرض سے کوئی ڈاکٹر شراب نوشی کا مشورہ دے، تو بھی کیا حرمت باقی رہے گی؟ اگر غلطی سے یا ساتھیوں کے چکر میں آکر شراب پی لے تو کیا معافی کی کوئی صورت نہیں، اگر ہے تو کیا ہے؟ ہم فوجی ہیں ہمیں مفت شراب دی جاتی ہے، اور سبھی کوئی پیتے بھی ہیں لیکن پینے کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ زیادہ مقدار میں ڈالڈا برداشت نہیں ہو سکتا، اس لئے پیتے ہیں کیا اس صورت میں جواز کی صورت نکل سکتی ہے؟

جواب

شراب کا پینا حرام اور موجب لعنت ہے، مفت ملی ہوئی شراب یا ساتھیوں کی خاطر ہو ہرگز جائز نہیں، کبیرہ گناہ ہے، شریعت کا حکم نافذ ہو تو کوڑے لگائے جائیں، اگر کوئی شخص بیمار ہے، اور دیندار تجربہ کار ماہر معالج تجویز کر دے کہ شراب کے علاوہ کوئی علاج نہیں، تو مجبوراً بطور دوا بقدر ضرورت گنجائش ہے کسی غلطی سے بلا اجازت شرع پی لی ہو تو غسل و وضو کر کے دورکعت نماز توبہ پڑھ کر دل سے نادم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو