الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیمار کے لئے شراب کا استعمال

سوال

اگر کوئی شخص بیمار ہے اور شراب سے اس کو وقتی طور پر یا مستقل شفا ہے تو مریض کو شراب استعمال کرنی لازم ہے، (یہ بات نماز جمعہ میں امام صاحب نے کہی ہے) سائل معلوم کرنا چاہتا ہے کہ شراب، سور، زنا، سود، ان چاروں حرام چیزوں میں سے کیا چیز کن حالات میں جائز ہے، یا ان حرام اشیاء کے کسی ایک چیز کے استعمال کے بجائے مر جانا بہتر ہے؟

جواب

زنا کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے ”وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا“ (الاية) سود لینا بھی جائز نہیں بلکہ حرام ہے، ”وَحَرَّمَ الربوا “اور سور کھانا بھی جائز نہیں، بلکہ حرام ہے ”قل لا اجد فيما اوحى الى محرماً على طاعم يطعمه الا ان يكون ميتة اودماً مسفوحاً اولحم خنزير الخ“، شراب پینا بھی جائز نہیں بلکہ حرام ہے ”انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه“ الاية، اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو