اسپتال میں ولادت
سوال
زید کی منکوحہ ہندہ پہلے بچہ کی ولادت کے وقت زید نے گھر پر زچگی کا بندو بست کیا لیکن بچہ کسی طرح نہ ہوا، مجبوراً اسپتال لیجانا پڑا، اور آپریشن کے ذریعہ بچہ کی پیدائش ہوئی، اسپتال میں پردہ کا کوئی انتظام نہیں، دوسرے بچہ کی ولادت کا وقت قریب ہے گھر پر انتظام میں جان کا خطرہ ہے، ایسی حالت میں زید کیا کرے؟ اسپتال میں علیحدہ کمرہ لے کر بے پردگی میں کچھ کمی ہوسکتی ہے، زید کے پاس کچھ نہیں، قرض لیکر ہی بندوبست کیا جاسکتا ہے، زید کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
جب جان کے لالے پڑ جائیں تو یہ بے پردگی انتہائی مجبوری کے باعث ہے، نہ اختیاری ہے نہ خوشی سے ہے، اللہ پاک اپنے بندوں کی مجبوریوں کو خوب جانتے ہیں
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔