بہیمہ موطوہ کا حکم
سوال
ایک شخص نے کسی گائے کے ساتھ زنا کیا جب ثبوت ملا تو کسی عالم صاحب کے کہنے پر واطی نے گائے کے مالک کو اس کی قیمت ادا کر کے گائے مذکورہ بہت دور دراز راہ پر لے جا کر فروخت کر دیا اور اس کی قیمت کو فقراء وغرباء پر صدقہ کر دیا۔ اب گذارش ہے کہ عالم صاحب مذکور کو ایسا حکم دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں اور ایسی گائے کو بیچنا اور ذبح کر کے گوشت کھانا مذہب حنفیہ میں شرعاً جائز ہے یا نہیں اور اس گائے کو بیچنا اور پالنا اور گوشت کھا لینا ہمارے اماموں کے نزدیک حلال ہے یا کسی کے نزدیک حرام بھی ہے یا نہیں؟
جواب
عبارات بالا سے معلوم ہوا کہ گائے مذکورہ کا امام ابو حنیفہ کے نزد یک گوشت کھانا درست ہے اور جو علت عبارت مذکورہ میں احراق کی لکھی گئی ہے اس سے ثابت ہوا کہ دور دراز جگہ پر فروخت کر دینا بھی درست اور کافی ہے اور اس صورت میں کراہت انتفاع واضاعت مال سے بھی حفاظت ہوگئی۔ صاحبین کے نزدیک احراق متعین ہے یہ بھی وجوباً نہیں بلکہ ندباً ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔