الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

برہمن سے خریدے ہوئے بیل کی واپسی

سوال

کسی شخص قصاب نے کسی برہمن کا بیل منڈی میں بکتا ہوا مول لے لیا۔ اب وہ کھانے کے واسطے ذبح کرنا چاہتا ہے اور برہمن و قصاب مسلمان ایک ہی گاؤں کے ہیں۔ اب برہمن واپس مڑوانا چاہتا ہے وہ نہیں موڑتا مگر کسی دیگر شخص نے بیل قصاب مذکور سے واپس کر دیا ہے۔ اب وہ برہمن اس کی پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں کیونکہ ذبح ہونے سے بچ گیا۔ آیا اس کا موڑنا کیسا تھا۔ اور مڑانے والا مسلمان ہوا۔ اس نے اچھا کام کیا یا شرع شریف کے اندر حرج ہے اور اس کا امام بنانا کیسا ہے۔

جواب

ہندو سے بیل وغیرہ کی خرید وفروخت جائز ہے، جب نا پسند ہو یا کسی مصلحت کے خلاف ہو تو واپس کرنا بھی درست ہے۔ مگر خیال مذکور سے واپس کرنا برا ہے تاہم اس کی امامت میں اس کی وجہ سے خرابی نہیں آتی پوجا پاٹ کرنا ہندوانہ فعل ہے۔ یہ اس کا ذمہ دار نہیں۔جس نے واپس کر دیا اس نے بھی برا کیا مگر اس سے اسلام سے خارج نہیں ہوا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو