غیر اللہ کے نام پر چھوڑے ہوئے سانڈ سے گائے گا بھن کرانا
سوال
غیر اللہ کے نام پر یعنی رام سیب درگاہ وغیرہ کے نام پر ہندو لوگ بیل، بھینس چھوڑتے ہیں، اس کا کھانا مسلمانوں کے لئے درست ہے یا نہیں؟ اور اس سانڈ سے جو کہ غیر اللہ کے نام پر ہے مسلمانوں کو اپنی گائے اور بھینس وغیرہ کو گا بھن کرانا درست ہے یا نہیں؟ اگر اس کا کھانا درست نہیں ہے تو اس سے گا بھن کرانا اور بچہ پیدا کرنا کیسے درست ہوگا؟ ایک مجبوری یہ ہے کہ مسلمان کوئی سانڈ نہیں چھوڑتا، بتائیے کہ نسل کس طرح باقی رہ سکتی ہے؟
جواب
غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور حرام ہے اس کا کھانا ہرگز جائز نہیں۔ اگر گائے وغیرہ گا بھن ہو کر بچہ دے تو وہ بچہ مردار نہیں۔ مردہ مینڈک، کیکڑا، گیدڑ اور انسانوں کے بالوں کی خرید و فروخت نا جائز ہے۔ اس کی قیمت کا پیسہ بھی جائز نہیں۔سانپ کا چمڑا دباغت دے کر بیچ کرنا جائز ہے۔ اس کا پیسہ بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔