نامحرم عورتوں کی ضیافت
سوال
ایک متقی پرہیز گار کے یہاں کچھ عورتوں نے جن کا پیشہ کمپنیوں میں ناچنا گانا ہے، موصوف کی رہائش گاہ پر جانے کی خواہش ظاہر کی، موصوف نے جانے کی اجازت بذریعہ دوسرے بچوں کے دلوادی، موصوف نے اپنے متعلقین مستورات کو ہدایت کر دی کہ ان عورتوں کی خاطر تواضع ناشتہ چائے وغیرہ سے کریں، اس موقع سے کوئی بھی غیر محرم یا موصوف ان کی خاطر تواضع میں شامل نہیں تھے، اس موقع سے ان عورتوں کو احساس جرم و کمتری بزبان خود ظاہر سے ہوئی ان عورتوں نے کہا کہ کیا کریں پیٹ کیلئے ایسا کرتے ہیں، بعض نے کہا کہ ہم لوگ اپنی بچیوں اور بچوں کی شادیاں…
جواب
ان متقی صاحب نے ان عورتوں کو اپنے مکان پر بلایا نہیں، بلکہ وہ خود گئی ہیں، اور ان کی تواضع اس طرح کی گئی کہ وہ خود ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، اور کوئی نامحرم شریک نہیں ہوا، اس طرز سے ایسا اثر پڑا کہ ان کو اپنے جرم کا احساس ہوا، کیا بعید ہے کہ حق تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق دے اور اصلاح فرمادے، گواہل دنیا کی نظر میں یہ چیزیں موجب اعتراض ہو سکتی ہیں لیکن ان صاحب کے لئے اس میں کیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔