برادرانہ دعوت میں کسی فرد کا بکرے کے گوشت کا مطالبہ
سوال
زید ایک منظم برادری کا فرد ہے، زید کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے یہاں ہر تقریب کے موقعہ پر اہل برادری کو بکرے کا گوشت کھلایا ہے، اس لئے میں جہاں بھی برادرانه دعوت میں شریک ہوں گا تو بکرے ہی کا گوشت کھاؤں گا، زید کی دوسری شرط یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے جوار کے کسی فرد نے کسی برادرانہ دعوت میں شرکت کی اور بڑے گوشت کا استعمال کیا تو اس کو بطور جرمانہ چالیس کلو گوشت بکرے کا مع اس کے تمام لوازمات مثلاً آٹا، چاول ادا کرنا ہوگا، زید کی اس بیجا ضد سے اتباع سنت پر کیا ضرب لگتی ہے، اور ایسے خیال کے تمام لوگوں کو شرعی حکم سے مطلع…
جواب
(۱) زید کا یہ مطالبہ غلط اور خلاف شرع ہے، اس نے اگر چھوٹا گوشت کھلایا ہے تو وہ قرض نہیں تھا کہ اس کا مطالبہ کیا جائے (۲) یہ جرمانہ شرعاً جائز نہیں حدیث پاک میں ارشاد ہے ”لا يحل مال امرا مسلم الا بطيب نفس منه“ (الحدیث)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔