الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کھیت پر خوشی میں دعوت کرنا

سوال

(۱) میں ایک کاشتکار ہوں، آراضی دیہات میں ہے، اس مرتبہ فصل اچھی ہوئی ہے، میں اس شکرانے میں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے بہت کچھ دیا ہے، اپنے کھیت میں مقامی اور غیر مقامی احباب کو کھانا کھلانا چاہتا ہوں، ایک صاحب نے مجھ پر اعتراض کر دیا کہ تمہارا فعل مماثل مشرکین ہے، کیونکہ مشرکین بھی فصل کاٹتے وقت بکرا کاٹ کر فصل پیداواری پوجا کرتے ہیں، لہذا وہ صاحب دعوت قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ میرے اس فعل کا تعلق مشرکین کے عمل سے نہیں ہے، حقائق سے خلاف صرف ظن پر چل رہے ہیں، اور تقویٰ کی آڑ لے…

جواب

(۱) شکرانہ میں فقراء کو صدقہ دینا اور احباب کو کھلا نا سب کچھ درست اور باعث خیر و برکت ہے، خواہ کھیت میں ہو، خواہ مکان پر ہو، بکرا ذبح کر کے ہو یا گوشت خرید کر ہو، لیکن جہاں پر مشرکین کا ایک عمل جاری و شائع ہو، ایک مسلم کو عقیدہ صحیح ہونے کے باوجود شرک سے بچ بچ کر بھی ان کا طرز اختیار نہیں کرنا چاہئے، کھیت میں کھانا پکنے اور کھلانے پر ہی اصرار کیوں ہے، آپ مکان پر پکوا کر بھی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو