کام سیکھنے کے لئے دوست واحباب کے اصرار پر مٹھائی
سوال
زید درزی کا کام سیکھنا چاہتا ہے، ماسٹر کہتا ہے کہ مٹھائی کھلاؤ کام سیکھنے کے لئے کچھ مٹھائی یا خورد و نوش عند الشرع کھلانا جائز ہے یا نہیں؟ یا دوست احباب بعض مرتبہ کہتے ہیں کہ مٹھائی کھلا ؤ اب وہ بے چارہ قرض لے کر کے کھلاتا ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جس ماسٹر کو کام سیکھانے کے لئے استاذ بنایا جاتا ہے، اس کو خوش کرنے کے لئے مٹھائی کھلانا کچھ اور ہدیہ دینا شرعاً درست ہے کوئی حرج نہیں، جن دوستوں سے بے تکلفی کا تعلق ہوتا ہے، اگر وہ اصرار بھی کریں تو رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے، بلکہ خوشی سے ان کو کھلا دینا چاہئے، البتہ کھانے والے کو چاہئے کہ یہ حدیث ذہن میں رکھے اور اس پر عمل کرے ”لا يحل مال امرأ مسلم الابطيب نفس منه، یعنی بغیر خوش…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔