بے نمازی اور سود خور کی دعوت
سوال
ہم کو معلوم ہے کہ زید نماز نہیں پڑھتا اور عمر سود کھاتا ہے، کیا علم ہونے کے باوجود زید و عمر کے گھر کھانا ہمارے لئے جائز ہے؟
جواب
اگر یہ معلوم ہے کہ عمر سود حرام کا کھانا کھلاتا ہے، تو اس کا کھانا حرام ہے، اگر یہ معلوم ہے کہ یہ کھانا کسی جائز آمدنی کا ہے تو اس کا کھانا درست ہے، اگر مخلوط آمدنی کا ہے تو غلبہ کا اعتبار ہے، یہ تو نفس کھانے کا حکم ہے، اب رہا یہ سوال کہ بے نمازی اور سود خوار کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے، تو اس کے متعلق یہ ہے کہ اگر یہ ظن غالب ہو کہ دعوت قبول نہ کرنے سے بے نمازی اور سود خوار کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔