الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فاسق کی دعوت، عوام کا چندہ اور ہدیہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلہ میں” عن عمران بن حصین قال نهى رسول الله ﷺ عن اجابة طعام الفاسقين “، يہ حدیث مشکوة شریف کتاب النکاح باب الولیمہ، ص ۲۷۹ فصل ثالث میں لکھی ہوئی ہے، ایک مرتبہ سہارنپور میں استفتاء کیا گیا تھا کہ فاسق کی دعوت قبول کرنا جائز ہے یا نہیں، جواب آیا تھا کہ فاسق معلن کی دعوت قبول کرنا مکروہ تحریمی ہے، اس سے اس حدیث کی نہی کو میں تحریمی سمجھا، ایک مولوی صاحب نے جو کہ مجاز حضرت تھانوی مدظلہ العالی کے ہیں مجھ کو شبہ میں ڈالدیا وہ کہتے ہیں فاسق اگر وارثوں کے حقوق نہ دیتا ہو وغیرہ غرض…

جواب

عبارت بالا سے معلوم ہوا کہ دعوت میں خرابی تین قسم کی ہوتی ہے :- اول: یہ کہ نفس مال ہی حرام ہو، دوم یہ کہ صاحب مال فاسق ہو اور مال حلال ہو، سوم یہ کہ مجلس دعوت میں منکرات ہوں، اول کا حکم یہ ہے کہ جب یقین یا ظن غالب سے اس مال کی حرمت کا علم ہو جائے تو اس کا کھانا حرام ہے، اور ایسی دعوت کا رد کرنا واجب ہے، قبول کرنا جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو