فاسق کی دعوت قبول کرنا اور اس کو سلام کرنا
سوال
کوئی فاسق مبتلائے فسق ہو مثلاً ریش تراشتا ہو یا دیگر فسق کے اندر مبتلا ہو تو اس کی دعوت کھانا یا اس کو سلام کرنا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں مولوی صاحب مکروہ تحریمی بتلاتے ہیں، اگر یہ بات صحیح ہے تو عام طور سے گشتوں میں متکلم صاحب کو اس سلسلہ میں پیش قدمی کرنی پڑتی ہے، لہذا کیا صورت اختیار کرنی چاہئے؟
جواب
جو شخص مبتلائے فسق ہو اور اس کو سلام کرنے یا اس کی دعوت قبول کرنے سے اس کی اصلاح کی توقع ہو تو اس کو سلام بھی کیا جائے، اور دعوت بھی قبول کی جائے، بشرطیکہ وہ حرام مال سے نہ کھلائے، اگر ترک سلام یا ترک دعوت سے اصلاح کی توقع ہو تو ترک کر دیں، بقصد تعظیم فسق سلام کرنا جائز نہیں ہے، لیکن جب اس میں ایمان بھی موجود ہے تو اکرام مسلم لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔