الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فاسق کی دعوت قبول کرنا

سوال

میں نے ایک کتاب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے، پھر دیکھا ریا کار اور شیخی خور کا کھانا کھانا جائز نہیں، ابوداؤد، پھر دیکھا حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جن کی دعوت کی گئی اور اس نے قبول نہیں کی تو خدا اور رسول کی نافرمانی کی، اس لئے میں فاسق جن کو میں جانتا ہوں، جیسے تاڑی پینے والا، شراب پینے والا، رشوت لینے والا، داڑھی کاٹنے والا، نماز نہ پڑھنے والا، ان کی دعوت کو قبول نہیں کرتا، ایک مولوی صاحب نے کہا کہ سبھوں کا کھانا کھانا جائز ہے، لیکن ان کی بات مجھے اس لئے سمجھ…

جواب

جو شخص علی الاعلان فاسق ہو اس کی دعوت قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے، جو شخص حرام مال کھلائے اس کی دعوت قبول کرنا ہرگز جائز نہیں ہے بلاوجہ کسی کے متعلق تجویز کر لینے کا حق نہیں کہ اس کا مال حرام ہے، بلا وجہ تفتیش کی بھی ضرورت نہیں کہ اس کا مال حلال ہے یا حرام ہے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو