دستر خوان پر سب ایک روٹی میں سے کھائیں یا الگ الگ ایک روٹی کے چار ٹکڑے کر کے کھائیں؟
سوال
ہر شخص دستر خوان پر الگ روٹی رکھ کر کھاوے یا ایک روٹی میں سے سب توڑ کر کھاویں؟ ایک روٹی کو توڑ کر چار حصے کر لینا کیسا ہے؟
جواب
سب طرح ٹھیک ہے، الگ الگ روٹی کھانے میں اپنی خوراک کا اندازہ باقی رہتا ہے، افراط و تفریط نہیں ہوتی، مشترک کھانے میں اتحاد و اتفاق کا پہلو غالب ہے، چار ٹکڑے کرنے کا دستور ان علاقوں میں ہے جن میں شیعوں کا زور ہے، اور اس سے اشارہ خلفائے اربعہ کی طرف ہے کہ ہم چاروں کو مانتے ہیں، شیعوں کی طرح دو یا تین کے منکر نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔