کیا علماء دیو بند کے نزدیک نماز میں حضور ﷺ کا خیال آنا موجب شرک ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ راقم الحروف (عبدالغفور مکینک) سے قادر صاحب نے کہا کہ ایک دیو بندی کی کتاب میں میں نے پڑھا ہے کہ اگر نماز میں سرکار دو عالم ﷺ کا خیال آئے تو نماز نہ ہوگی اور اگر گدھے کا خیال آ جائے تو نماز ہو جائیگی، اسکے جواب میں راقم الحروف نے عرض کیا کہ یہ بات تو عالم کے سمجھانے کی ہے مگر اصرار کرنے پر میں نے عرض کیا کہ چونکہ سرکار دو عالم ﷺ کا خیال شریف کوئی وسوسہ نہیں بلکہ ایک عالی مقام ہے ممکن ہے شرک ہو جائے اور وسوسہ معاف ہے جس سے نماز ہو جائے گی۔
جواب
ایک صدی سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے منظم سوچی سمجھی اسکیم کے تحت علماء دیو بند کو بدنام کرنے اور ان سے عوام کو متنفر کرنے کے لئے ان کی طرف بے بنیاد غلط باتیں منسوب کی جاری ہی ہیں اور ان کی عبارتوں کو توڑ مروڑ کر ان کے غلط اور مکر وہ معنی عوام کو بتلائے جارہے ہیں جن کی صفائی بارہا کی جاچکی ہے، بریلی کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جا کر وہاں کے علماء کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔