فقہی جزئیات کا مقام بحیثیت ادلہ
سوال
کتب فقہ میں ادلہ شرعیہ چار بتلائے ہیں، (۱) کتاب اللہ (۲) سنت رسول الله (۳) اجماع امت (۴) قیاس مجتهد، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسائل فقہیہ عملیہ کس دلیل شرعی کی حیثیت رکھتے ہیں ان مسائل کو قرآنی درجہ دیا جائے یا حدیث نبوی کے درجہ میں رکھا جائے یا اجماعی کہا جائے یا قیاسی سمجھا جائے؟
جواب
جس طرح ادلہ شرعیہ کی ایک حیثیت نہیں اسی طرح سے انسے ثابت شدہ مسائل کی بھی ایک حیثیت نہیں۔ پھر طرق ثبوت میں بھی بہت تفاوت ہے۔ اس لئے ان ادلہ کی تقسیمات متعددہ کر کے ہر تقسیم کے اقسام اور ان کے احکام کی تفصیلات کو اصول فقہ کی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض مسائل فقہیہ درجہ قرآن کریم میں ہیں۔ بعض درجہ حدیث شریف میں ہیں، بعض درجہ اجماع میں ہیں، بعض درجۂ قیاس میں ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔