عالم محقق کیلئے تقلید اور ایک مذہب سے دوسرے مذہب کی طرف انتقال
سوال
فقہاء کی اصطلاح میں تقلید کے کیا معنی ہیں؟ ۲۔ حقیقت یہ امر علماء کے یہاں مسلم ہے کہ جو شخص بجائے خود مجتہد ہواس کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی تقلید کرے بایں معنی کہ التقلید بانه العمل بقول من لا يعرف دليلة۔ ۳۔ کوئی شخص اگر خود اجتہاد کے مرتبہ پر فائز نہ ہومگر عالم بالکتاب والسنۃ ہو اور نہ صرف عالم ہو بلکہ سنن نبویہ میں نظر بالغ رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ وہ مختلف مذاہب فقہیہ کے فروعی مسائل میں تحقیق اور ترجیح کی بھی قابلیت رکھتا ہو ایسے عالم کیلئے ائمہ مذاہب کی تقلید کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
جس شخص پر اعتماد ہو کہ دلیل کے موافق حکم بتائے گا اس کے قول کو تسلیم کر لینا اور اس سے دلیل کا مطالبہ نہ کرنا تقلید ہے کذافی عقد الجید ۲۔ راجح قول یہی ہے کہ مجتہد کو دوسرے مجتہد کی تقلید کا حق حاصل ہے اس لئے کہ اجتہاد متجزی ہے۔ کما صرح به الشامی۔ ۳۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔