اختلاف کے وقت کس قول پر عمل ہو
سوال
فقہ حنفی کی جتنی درسی کتب ہیں انہیں تقریباً سب میں احناف کا آپس میں اختلاف ہوتا ہے، آیا اختلاف کا ثمرہ یہ ہے کہ ہر عمل جائز ہے یا نہیں اگر نہیں تو کس بات پر عمل ہو، امام صاحب کے مسلک یا امام ابو یوسف اور امام محمد کے مسلک پر ہم فیصلہ کس طرح کریں؟ احناف کی وہ کونسی کتاب ہے جس کے تمام مسائل بطور فیصلہ اور فتوے کے ہوں، تاکہ وہ خرید کر ہر وقت مسئلہ دیکھ لیں اور وہ کتاب اوروں سے جامع ہو؟
جواب
كيف ما اتفق کسی قول پر عمل کرنا درست نہیں بلکہ اس کیلئے کچھ قواعد وضوابط ہیں جنکی پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں چند اقوال ہوں اور اصحاب ترجیح نے کسی قول کی ترجیح صراحۃً بیان کی ہے تو راجح پر عمل کیا جائیگا اور اگر صراحه ترجیح بیان نہیں کی تو ضمنی ترجیح کو تلاش کیا جائے۔ مثلاً ایک قول متون میں ہے۔ دوسرا شروح میں تو قول اول کو تر جیح ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔