الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قادیانیوں سے تعلق

سوال

بد قسمتی سے ہمارے قصبہ کے دو تین شخص مرتد ہو کر مرزائی فرقہ ضالہ میں شریک ہو گئے اور ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح ہمارے قصبہ میں بھی ابتداء اس فرقہ کے استیصال کی طرف توجہ نہ کی گئی۔ اور مرتدین کے ساتھ خلط ملط اور اکل وشرب وغیرہ کا سلسلہ بدستور جاری رہا تقریباً دس سال ہوئے مولانا مولوی محمد ایوب صاحب بیگ فاضل دیو بند نے اہلِ قصبہ کو اس فرقہ کے دجل سے آگاہ کرتے ہوئے اہلِ قصبہ کو ان سے انقطاع تعلقات کی تلقین فرمائی۔

جواب

مرزائی لوگ بفتوی علماء حق کافر ومرتد ہیں ان کے ساتھ رشتہ مناکحت قطعاً نا جائز ہے اور ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ وہ زنا کے حکم میں ہے جتنے لوگ ایسے نکاح میں شریک ہوں یا باوجود قدرت کے ایسے نکاح کو نہ روکیں وہ سب حسب حیثیت گنہگار ہوں گے۔ مرتد کے ساتھ اکل وشرب ومجالست وغیرہ بھی نا جائز ہے قلبی محبت بھی قطعاً ممنوع ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو