قادیانیوں کے ساتھ تعلقات اور اس پر صلوٰۃ جنازہ وغیرہ
سوال
اگر کوئی شخص اہل سنت قادیانی ہو جائے تو وہ خارج از اسلام ہو جاتا ہے یا نہیں اس شخص سے رسم تعلقات باقی رکھنا اس کی دعوت کھانا اس کے یہاں تقریبات نکاح وغیرہ میں شریک ہونا یا اس کو اپنے یہاں دعوت کھلانا اگر وہ انتقال کر جائے تو اس کی تجہیز وتکفین میں شرکت کرنا یا کسی عالم کو با وجود جملہ حالات معلوم ہونے کے اس کی نماز جنازہ پڑھنا اور اس کو مسلمانوں کے مدفن میں دفن کرنا جائز ہے یا نہیں۔ عالم صاحب کے واسطے کیا حکم ہے۔ کیوں کہ عوام الناس کی شرکت کا بھی باعث ہوا۔ فقط۔
جواب
علماء اسلام کے فتویٰ کے مطابق قادیانی کافر ہیں، جو شخص قادیانی ہو جائے وہ مرتد کے حکم میں ہے اس سے تعلق رکھنا اس کے نکاح وغیرہ میں شریک ہونا یا اپنے یہاں اس کو شریک کرنا نا جائز ہے، اس کے جنازہ میں شرکت اور نماز جنازہ بھی منع ہے جو شخص باوجود علم کے قادیانی کے جنازہ کی نماز پڑھے یا پڑھائے وہ گنہگار ہے اسکو توبہ لازم ہے قادیانی کو اہل اسلام کے قبرستان میں بھی دفن نہیں کرنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔