قرآن کریم کے چالیس پارے ماننے والے کا حکم
سوال
یہ قرآن کریم فرقان حمید کے مکمل تھیں پارے ہیں مگر ایک فرقہ کہتا ہے کہ قرآن کریم کل چالیس پاروں میں اترا ہے ظاہر تمیں پارے اور مشائخ کے سینہ میں پوشیدہ دس پارے سینہ بسینہ چلے آرہے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ یہ غلط ہے تو اس جماعت کو کیا کہنا چاہئے؟
جواب
یہ فرقہ قرآن کریم کو محرف مانتا ہے اس کا ایمان قرآن پر نہیں جب پورا قرآن بھی اسکے پاس نہیں تو یہ اہل کتاب بھی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔