تعزیہ، مسجد، کعبہ میں فرق
سوال
ایک شخص نے کہا ہے جو تعزیہ بناتے ہیں وہ لکڑیاں اور کاغذ ہے اس میں کوئی ثواب نہیں یعنی فضول ہے اس کے جواب میں دوسرے شخص نے کہا جیسے تعزیہ بدعت ہے اور لکڑی اور کاغذ کا بنا ہوا ہے ایسے ہی مسجد مٹی کی اور کعبہ شریف پتھر کا بنا ہوا ہے وہ بھی بدعت ہے اسکے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟ (۲) جو شخص تعزیہ بہ نیت ثواب اور تعظیم بنائے اور اہل السنت والجماعت سے ہواس کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب
(۱و۲) جو شخص مسجد اور کعبہ شریف کو بدعت کہتا ہے وہ بدعت کے معنی نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے، جس کام کو حضور ﷺ اور آپکے اصحاب نے ثواب سمجھ کر کیا ہو۔ قرآن شریف اور حدیث شریف میں اسکی فضیلت ہو وہ ہرگز بدعت نہیں ہو سکتا وہ عین ثواب ہے۔ بدعت وہ ہے جو ان اکابر نے نہ کیا ہو نہ اسکے کرنے کا حکم دیا ہو۔ نہ شریعت نے اسکے کرنے کو ثواب کہا ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔