تعزیہ اور ماتم شیعہ
سوال
ہمارے بزرگوں نے منت مانی تھی کہ ہم تعزیہ بنایا کریں گے اس وقت تک اس پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، ہم اور ہمارے بزرگ سنی اور حنفی ہیں، اب بعض لوگ منع کرتے ہیں کہ تعزیہ بنانا منع ہے اور اہل سنت یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر اپنے بزرگوں کی رسم کو چھوڑ دیں گے تو ضر ر ضرور پہونچے گا۔ سائل ملتمس ہے کہ شرع شریف تعزیہ بنانے کا کیا حکم دیتی ہے؟ ۲۔ تعزیہ بنا کر رکھنا اور اسکی پرستش کرنا، ملیدہ وغیرہ چڑھانا، بخورات جلانا وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ ۳۔
جواب
(۱) تعزیہ کی منت درست نہیں ہوتی۔ جن بڑوں نے اس کی منت مان کر بنانا شروع کیا وہ غلطی پر تھے اور اس فعل کی وجہ سے گنہگار ہوئے اور آپکو اس فعل میں ان کا اتباع کرنا جائز نہیں، تعزیہ وغیرہ ہر گز نہ بنائیے قطعاً ترک کر دیجئے، ہر گز کوئی ضرر نہیں ہوگا، تعزیہ بنانا اور اس پر نذر ونیاز چڑھانا، اس سے منت مانگنا حرام وشرک ہے۔ (۲) حرام وشرک ہے۔ (۳) یہ بھی سخت گناہ اور شرک ہے۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔