قرض خواہ کا مقروض کو رسوا کرنا
سوال
زید نے اپنے لڑکے کی شادی میں بکر سے کچھ قرضہ اور غلہ وغیرہ قرض لیا، شادی کے بعد زید کسی مجبوری کیوجہ سے قرضہ غلہ ادا نہ کر سکا بکر نے ادھر اُدھر رسوا کرنا شروع کر دیا، برادری اور غیر برادری ہر جگہ پر رسوا کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ تقریب اور شادی میں بھی بدنام کیا اور بے ایمان اور خدا جانے کیا کیا کہا زید بہت شرمندہ ہوا اور پریشان ہوا کہ اب وہ قرضہ اور غلہ وغیرہ کچھ نہیں دیتا اور کہتا ہے ہماری عزت گئی اور رسوائی ہوئی اور بے ایمان ہیں تو کچھ نہیں دیں گے، عزت بھی کوئی چیز ہے، ہماری بدنامی و بے عزتی ہوئی عزت گئی…
جواب
اللہ تعالیٰ کے یہاں ضرور معاملہ ہوگا بکر کو اپنا قرضہ وصول کرنے کا حق تھا اور ہے، زید کے ذمہ لازم ہے قرضہ ادا کرے یا معاف کرائے ورنہ سخت پکڑ ہوگی، اور دنیا میں بھی اس کے ترکہ سے وصول کرنے کا حق ہوگا، بکر نے اگر اپنا قرضہ وصول کرنے میں حدود شرع سے تجاوز کیا ہے یعنی ذلیل کیا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا مگر اس کی وجہ سے قرضہ معاف نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔