الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امانت کا ضمان

سوال

ایک شخص بحیثیت ملازم کارندہ کی تحویل میں سے کچھ روپیہ چوری ہو گیا، مالک نے ملازم سے حلف اٹھوایا اور یہ کہلوایا کہ یوں کہہ کہ اگر میں نے تمہارا روپیہ اپنے کام میں لگایا ہو، یا کسی کو دیا ہو، یا کسی سے آئندہ خرچ کے لئے یا اپنے پاس رکھا ہو تو دھا ہو جاؤں، اور بھیک مانگتا پھروں، ایمان نصیب نہ ہو، ایسی قسم لینے کے بعد مالک کو ملازم سے ڈنڈ لینا جائز ہے، یعنی گم شدہ روپیہ نہ لینا؟

جواب

اگر ملازم کے پاس وہ روپیہ امانت تھا، اور کافی حفاظت کے باوجود چوری ہوگیا، تو ملازم پر ضمان نہیں، اگر ملازم کی بے توجہی اور غفلت سے ایسا ہوا ہے، تو ملازم پر ضمان لازم ہے، الایداع هو تسلیط الغیر علی حفظ ماله والودیعة ما یترک عند الامین وهی امانة فلا تضمن بالهلاک، زیلعی ج۵/ص۷۶۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو