الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امانت کو دفن کر دینے کی شکل میں ضائع ہونے پر ضمان

سوال

پچیس سال ہوئے میری بھانجی میری بیوی کے پاس کچھ چاندی کا زیور بغرض حفاظت رکھنے کو آئی، میرے منع کرنے پر بھی بیوی کی خوشامد کرکے رکھ گئی، بیوی نے وہ زیور ڈبیہ میں رکھ کر ایک کرائے کے مکان میں گاڑ دیا، کچھ عرصہ کے بعد برسات میں مکان گرا، تو ملبہ اٹھوا کر مکان دوبارہ بنوایا گیا، بہرکیف اب بھانجی نے زیور مانگا، تو کھودا گیا، زیور نہ ملا، اب میری بیوی اور میں دونوں بہت شرمندہ ہیں، ادھر بھانجی زیور بڑھا چڑھا کر بیان کر رہی ہے، اب اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

جبکہ امانت کی چیز ڈبے میں رکھ کر محفوظ مکان میں زمین کھود کر گاڑ دی، تو اپنی طرف سے حفاظت کا پورا انتظام کر دیا، اس کے بعد جب وہ گرا اور دوبارہ اس کی تعمیر ہوئی، تو وہ امانت یاد بھی نہیں تھی، اس بات کو ۲۵ سال گذر چکے، اس جگہ کو کھودا گیا دیکھا گیا تو وہ امانت محفوظ نہیں، ایسی حالت میں اس کا ضمان واجب نہیں، هکذا یفهم مما فی الهندیة اذا قال دفنت فی داری او کرمی او نسیت مکانها لم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو