الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امانت کا ضمان حفاظت میں کوتاہی کی بناء پر

سوال

احقر کے پاس ذی الحج میں پھوپھی زاد بھائی نے تین حصوں کے لئے مبلغ ۷۰ روپیہ اور ایک بیوہ کی طرف سے پڑوس میں ایک حصہ کے لئے مبلغ ۲۵ روپے بھیجے پوسٹ مین کے ذریعے، جب منی آرڈر لاکر تین نوٹ دس دس کے دیئے، اور پانچ واپس مانگے، احقر کے پاس جیب میں پہلی امانت کے ساتھ مبلغ ۶۰ روپے جو کہ احقر کی بہو کی جانب سے ہر دوئی مباحث سلمہ نے بھیجے تھے، رکھے تھے، وہ روپے واپس کر دئیے، ان میں دو دو کے دونوٹ اور ایک ایک روپے والا ایک نوٹ پوسٹ مین نے پھر واپس دیکر کہا کہ ریز گاری دیدو، اس دوران احقر نے ریز گاری دینے کے لئے پہلے سے نوٹ…

جواب

بس اڈہ پر جہاں بکثرت ہر قسم کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، گھٹنے کے نیچے نوٹ رکھ کر اخبار پڑھنا اور اخبار فروخت کرنے کے لئے چلے جانا، اور نوٹوں کو اٹھا کر جیب میں نہ رکھنا، ایسی صورت میں یقیناً حفاظت میں کوتاہی ہوتی ہے، ایسی صورت میں نوٹ ضائع ہونے سے ضمان لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو