امانت کے ہلاک کرنے پر ضمان
سوال
اگر کسی شخص نے کسی دوسرے مسلمان کے پاس اپنی امانت رکھی مثلاً غلہ، سونا، چاندی وغیرہ اور اس نے بغیر اجازت کے وہ اپنے کام میں لے لی، اب امین سے وہ شخص اپنی امانت طلب کرتا ہے، مگر امین کہتا ہے کہ خرچ ہوگئی، اپنی امانت کی قیمت لے لو، اس وقت قیمت اس چیز کی چار روپے من ہے، اور جب وہ امانت رکھی تھی، تو دو روپے من کا بھاؤ تھا، تو اب امین سے امانت رکھوانے والا چار روپے من کے بھاؤ یعنی موجودہ بھاؤ کے حساب سے دام وصول کرتا ہے، یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
جواب
امین مال امانت میں بلا ضرورت تصرف کرنے کی وجہ سے بمنزلہ غاصب کے ہو گیا، اور غاصب اگر شئی مغصوب کو ہلاک کر دے، تو اس کے ذمہ مغصوب کا بدل واجب ہوتا ہے، مثلی میں مثل اور قیمتی میں قیمت، اور صورت مسئولہ میں مال امانت مثلی ہے لہذا مثل واجب ہوگا خواہ اس کی قیمت کچھ بھی ہو، والضمان لو هلکت ففی کالمثلی الکیلی والوزنی والعددی المتقارب یجب مثله، سکب الانہر، ج۲/ص۴۵۶، قال والولوالجی فی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔