الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امانت غسل خانہ میں رکھ کر بھول گیا اس کا ضمان

سوال

امسال حضرت کی دعاؤں کے صدقہ میں حج بیت اللہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، چلتے وقت ایک محسن نے مجھے دو ہزار روپیہ دیئے، اور گھڑی کمبل، قالین کی فرمائش کی، اور تین افراد کی قربانی کرنے کی فرمائش کی، میں نے کہا کہ اگر آپ کی رقم خیریت سے پہنچ گئی، تو انشاء اللہ تعالیٰ فرمائش کا سامان ہمراہ لے کر آؤں گا، بمبئی پہنچ کر اس میں سے ۲۶۰۰ روپیہ کی رقم جمع کرنے کی نیت سے الگ کر لی، غسل کی حاجت ہوئی، اور میں غسل خانہ گیا، کپڑے اتار کر اس رقم کو طاق میں رکھ کر بھول گیا، اس طرح یہ رقم ضائع ہو گئی، جو رقم علیحدہ تھی، میں نے اس رقم سے…

جواب

امانت کا روپیہ غسل خانہ میں غسل کرتے وقت طاق میں رکھدیا پھر بعد غسل اٹھانا یاد نہیں رہا، وہیں چھوڑ کر چلے آئے، اور روپیہ ضائع ہو گیا، تو وہ تمام روپیہ واپس کرنا ہوگا، ”ولو قال المودع وضعت الودیعة بین یدی فقمت ونسیتها فضاعت ضمن وبه یفتی“ اھ، عالمگیری۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو