الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مسلم کے پاس مسجد کا پیسہ امانت تھا وہ ضائع ہو گیا

سوال

متولی مسجد کو اپنے پاس مسجد کے پیسے رکھنے میں حفاظت کا یقین نہیں تھا، اور کوئی دوسرا مسلمان بھی امانت رکھنا قبول نہیں کرتا تھا تو اس وقت شرعی حاکم نہ ہونے کی وجہ سے بامر جماعت محلہ متولی نے مسجد کے پیسے کافر کے پاس رکھے، اور وہ کافر اس وقت مالدار تھا، اور امانت رکھنے میں مرجع خاص و عام تھا، اب کافر مفلس ہو گیا، اور مسجد کے پیسے اس کے پاس سے ہلاک ہو گئے اس کے پاس اب کوئی مال و جائیداد نہیں ہے کہ جس سے مسجد کے پیسے وصول ہو سکیں، تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس مسجد کے پیسہ کا ضمان لازم ہوگا یا نہیں، اگر لازم ہو تو…

جواب

اس سے معلوم ہوا کہ متولی کو اگر مسجد کے پیسے ضائع ہونے کا اندیشہ تھا اور کوئی دوسری صورت بھی حفاظت کی نہیں تھی، اور اہل محلہ کے اس امر سے متولی نے وہ پیسے کافر کے پاس رکھدئے اور اس کافر سے وصولیابی کی کافی توقع تھی، تو پھر متولی پر ضمان لازم نہیں اور نہ اہل محلہ پر لازم ہے، یہی حکم صورت مذکورہ قرض کا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو