الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مؤذن سے روپیہ ضائع ہو گیا ضمان کس پر ہے؟ اور مدرسہ کا روپیہ پھولوں کے ہار میں خرچ کرنا

سوال

ہمارے گاؤں میں افریقہ سے ایک آدمی آیا تو مسجد اور مدرسہ کے اراکین نے جلسہ کیا، اور اس کی مہمان نوازی کے لئے پھولوں کا ہار اور دوسری چیزیں لانے کے لئے متولی نے مدرسہ کے مؤذن صاحب کو سو روپے دیئے وہ روپے مؤذن سے گم ہو گئے، اب وہ روپے کس کے ذمہ ہیں، مؤذن صاحب دیں یا متولی صاحب؟ واضح رہے کہ مؤذن صاحب ہی بینک سے روپے لانے اور لیجانے کا کام کرتے ہیں، اور یہ کام دیانت داری کے ساتھ کرتے ہیں، اور یہ بات یقینی ہے کہ روپے گم ہو گئے، خیانت نہیں ہوئی ہے، گاؤں میں اعلان بھی کرایا گیا مگر نہیں ملے۔

جواب

اگر پوری حفاظت کے باوجود مؤذن سے روپے گم ہوگئے تو مؤذن پر ضمان لازم نہیں، بلکہ جن کے روپے تھے ان کے گئے، البتہ مسجد یا مدرسہ کے روپیہ کو پھولوں کے ہار میں خرچ کرنا جائز نہیں، ایسا کرنے سے ضمان لازم ہے، پس جتنا روپیہ بے محل خرچ کرنے کے واسطے دیا گیا تھا اس کا ضمان اراکین دیں، اور وہ مدرسہ یا مسجد میں جس کا روپیہ تھا داخل کر دیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو