اگر مبیع ڈاک سے ضائع ہو جائے تو ضمان کس پر ہے
سوال
زید نے عمر سے کچھ کتابیں بطور خرید بذریعہ ڈاک طلب کی، عمر نے زید کے تحریر کردہ پتہ پر متعدد بار کتابیں ارسال کی، جس میں چند بار پوری پوری کتابیں وصول ہو گئیں، لیکن بعض پیکٹ میں سے کچھ کتابیں ضائع ہو گئیں، اور وہ زید تک نہیں پہنچیں، اس صورت میں اس ضائع شدہ کا ضامن از روئے شریعت کون ہوگا؟
جواب
اگر عمر (بائع) نے زید (مشتری) کی ہدایت کے موافق کتابیں روانہ کی ہیں اور کوتاہی نہیں کی تو بائع پر ضمان لازم نہیں ہے، کیونکہ اس نے مشتری کے امر پر عمل کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔