دوسرے کیلئے ٹکٹ خریدنے کی صورت میں ضمان
سوال
زید، عمر، خالد، تینوں سفر کو جا رہے تھے، راستہ میں احمد ملا کہا میں جاؤں گا، لیکن پیسے میرے پاس نہیں تم میں سے کوئی اگر ٹکٹ لیکر دیدے تو جاؤں گا، زید کے پاس پیسہ تھا لیکن وہ پہلے اندر چلا گیا تھا، عمر نے خالد سے کہا کہ تم جلدی اندر جا کر زید سے پیسہ لیکر احمد کے لئے ٹکٹ لے لو، لہذا خالد چلا، احمد پیچھے دروازہ تک گیا تھا، اور خود کہتا ہے کہ میں نے خالد کو آواز دی، بولا نہیں، لہذا غصہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔
جواب
اگر احمد کے امر سے خالد نے زید سے پیسے قرض لیکر احمد کے لئے ٹکٹ خریدا ہے، تو ان پیسوں کا ذمہ دار احمد ہے، اگر احمد کے امر سے نہیں خریدا بلکہ از خود خریدا ہے تو خالد ذمہ دار ہے، اگر زید نے خود خریدا یا خریدنے کے لئے خالد کو امر کیا تو زید ذمہ دار ہے، اور اگر احمد کا یہ مطلب تھا کہ اگر تم میں سے کوئی تبرعاً یہ ٹکٹ دے تو میں جاؤنگا، تو جس نے تبرع کیا ہے، وہی ذمہ دار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔