بیع میں دھوکہ دینا
سوال
نائلون میں بیل چنٹ دار ہے وہ ہمیں ۹ میٹر پر ملتی ہے اور ہم اس کو کھینچ کر کہ گیارہ میٹر بڑھا دیتے ہیں، اور ہم اس کو ناپ کر فروخت کرتے ہیں، اور اگر گاہک کہتا ہے یہ کھینچی ہوئی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ کھینچ رکھی ہے، گاہک کی مرضی ہے کہ لے یا نہ لے اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
جب آپ بتلا دیتے ہیں کہ ہاں یہ کھینچ رکھی ہے، اور دھوکہ نہیں دیتے تو خریدار کی مرضی ہے دل چاہے خریدے نہ دل چاہے نہ خریدے، دھوکہ دیں تو نا جائز اور گناہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔