جزوی حصہ دار کا پوری زمین کا بیعانہ لینا
سوال
سرائے مسافراں محلہ کے ایک گوشہ میں چاہ پختہ واقع ہے اور کچھ چاہ پختہ متعلق زمین ہے، وہ چاہ پختہ بھر دیا گیا ہے، اب اس جگہ میں اچھا خاصا مکان تعمیر ہو سکتا ہے، اس چاہ پختہ کے جنوب میں راستہ عام ہے، اس کے بعد گھسیٹوں صاحب کا مکان ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس جگہ کی قیمت مسجد یا مدرسہ اچھے مصرف میں دے کر اپنا مکان یا اپنی کوئی عمارت بنالیں چنانچہ اس سلسلہ میں ایک پنچایت عام ہوئی، اور اس میں یہ تحقیقات کی گئی کہ یہ جگہ کس کی اور کون اس کا مالک ہے، ثابت ہوا کہ یہ بھٹیاروں کی ہے اور ان بھٹیاروں نے یہ جگه رو برو پنجایت کے مسجد…
جواب
کسی مشترکہ زمین کے متعلق جزوی حصہ دار کو پوری زمین کی بیچ کرنے یا اس کے لئے بیعانہ کر لینے کی اجازت نہیں، جب تک سب حصہ دار اس پر رضا مند نہ ہوں اب جب کہ بیعانہ واپس کر دیا تو بات ہی ختم ہو گئی، دوسرے حصہ داروں کی طرح بیعانہ لے کر واپس کرنے والے بھی اپنا حصہ مسجد کو دیدیا اب تو وہ جگہ مسجد کی ہو گئی، اب اس کو فروخت نہ کیا جائے، اس پر مکان تعمیر کر دیا جائے، پھر اس مکان کو خواہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔