الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سوسائٹی میں رقم جمع کرنے کا حکم

سوال

افریقہ میں کچھ بہی خواہ حضرات نے ایک تعلیمی ویلفر سوسائٹی قائم کی ہے، اس کا اہم کام یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ماہانہ کچھ رقم وصول کر کے سوسائٹی فنڈ میں اس کے نام سے جمع کر لیتے ہیں، اور آڑے وقت میں یہ رقم جمع کرنے والے کو دے دیتے ہیں، سوسائٹی کے قانون کے رو سے اگر رقم جمع کرنے والا مر جائے تو جمع شدہ رقم سے اس کی اولاد کی تعلیم دلائی جاتی ہے، اور اگر وہ کسی وقت اپنی کل رقم واپس لینا چاہے تو ایک مقررہ مدت کے بعد اس کی رقم واپس کی جاتی ہے، اصل رقم سے کچھ زائد رقم بھی اسے دیتے ہیں، سوسائٹی مختلف کاروبار کر کے جمع شدہ رقم…

جواب

اگر سوسائٹی ان رقوم سے تجارت کرتی ہے اور اسکا نفع شرکاء کو ان کے رقوم کے موافق دیتی ہے، تو وہاں رقوم کا جمع کرنا اور نفع لینا درست ہے، بشرطیکہ تجارت بھی جائز ہو اور کوئی دوسری چیز بھی اس میں خلاف شرع نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو